Allama Iqbal

78 quotes

اقبالؔ بڑا اپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے / گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا۔

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے / ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند۔

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں / کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ / سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف۔

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے / من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے / میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی / تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن۔

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں / تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ۔