Allama Iqbal

78 quotes

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا / تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے / خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو / کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری / کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری۔

جوانوں کو مری آہِ سحر دے / پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے۔

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری / زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری / اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری۔

حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک / کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک۔

گزر جا بن کے سیلِ تند رو کوہ و بیاباں سے / گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا۔

نہیں منت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری / خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری۔