Allama Iqbal

78 quotes

تیرے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے / خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے۔

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا / شباب جس کا ہو بے داغ، ضرب ہے کاری۔

باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے / شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر / ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا / ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا۔

نگہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے / خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے۔

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے / وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا۔

آئینِ جواں مردی، حق گوئی و بے باکی / اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔

پلٹ کر جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا / لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ۔

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم / رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن۔